دنیا کا سب سے مہنگا ترین سیب بلیک ڈائمنڈ

آپ نے اس گہرے رنگ کے نایاب ”بلیک ڈائمنڈ ایپل“ کا نام بھی نہیں سنا ہوگا۔

ام طور پر سیب کا رنگ سرخ، سبز، پیلا یا ان تینوں  کا ملاجلا ہو تا ہے لیکن مخصوص جغرافیائی حالات میں سیب کا رنگ گہرا ارغونی ، تقریباً سیاہ، بھی ہوسکتا ہے۔  ایسے سیبوں کو سیاہ ہیرے یا بلیک ڈائمنڈ کہا جاتا ہے۔ ایسے سیب  صرف تبت کے پہاڑوں  پر کاشت کیے جا رہے ہیں۔
یہ سیب ہوا نیو(Hua Niu) سیبوں کی ایک قسم ہے۔  یہ سیب نینگچی، تبت کے علاقے میں کاشت کیےجاتے ہیں۔
ایک چینی کمپنی نے یہاں پر 50 ہیکٹر ہر ان سیبوں کا باغ کاشت کیا ہے۔ سطح سمندر سے 3100 میٹر بلندی پر یہ جگہ ان سیبوں کی کاشت کے لیے بہترین ہے۔ یہاں دن اور رات میں درجہ حرارت کا فرق بہت زیادہ ہے۔ اس باغ میں سیبوں پر بھرپور سورج کی روشنی اور الٹرا وائلٹ شعاعیں پڑتی ہیں، جس سے ہوا نیوا قسم کے سیب گہرے ارغوانی ہو جاتے ہیں۔
نینگچی  میں ان سیبوں کا باغ 2012 میں لگایا گیاتھا۔
2015 میں یہاں پھل لگنا شروع ہوگیا تھا۔ اس باغ کا پھل بیجنگ، شنگھائی، گوانگزو اور شینزن کی مخصوص سپرمارکیٹس میں 6 یا 8 سیبوں کی گفٹ پیکنگ میں  فروخت کیا جاتا ہے۔ محدود پروڈکشن اور ڈسٹری بیوشن کے اخراجات کی وجہ سے اس کی قیمت بھی کافی زیادہ یعنی 50 یوان یا تقریباً 1 ہزار روپے فی سیب ہے۔
رپورٹس کے مطابق عام سیب کا درخت 2 سے 5 سال میں تیار ہو جاتا ہے لیکن بلیک ڈائمنڈ  کے درخت کو تیار ہونے میں 8 سال تک لگ جاتے ہیں۔
اس کے بعد پیداوار کا صرف 30 فیصد حصہ ایسا ہوتا ہے جسے رنگت کے لحاظ سے بلیک ڈائمنڈ ایپل کہہ کر فروخت کیا جا سکتا ہے۔ باقی تمام سیبوں کا رنگ تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔
سیب کے بہت س کاشتکاروں کے نزدیک سیاہ رنگ کے سیبوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ انٹرنیٹ پر بھی اس کے حوالے سے زیادہ مواد نہیں ملتا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا میں سیاہ سیبوں کا کوئی وجود نہیں اور ان کی گردش کرتی تصاویر میں اصل رنگ کو گہرا کر کے دکھایا جاتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *